۱؎ آپ تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو خالد ہے،حبشی تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام تھے جنہیں حضرت فاروق نے مکہ معظمہ میں ۱۱ھ میں خریدا،آپ کی عمر ایک سو چودہ سال ہوئی،مروان کے زمانہ میں وفات پائی، ۸۰ اسّی ہجری میں۔
۲؎ اپنی زبان شریف کو کھینچ کر مروڑ رہے تھے یا اسے باہر نکال ڈالنے کی کوشش فرمارہے تھے گویا اپنی زبان کو سزا دے رہے تھے۔
۳؎ یہ انتہائی خوفِ خدا کی دلیل ہے حضرت صدیق کی زبان صدق کے سواء کیا بولے گی مگر پھربھی اپنے کو قصور وار کہتے ہیں جیسے حضرات انبیاءکرام نے اپنے کو ظالم خاسر وغیرہ فرمایا،حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے رب انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا۔شعر
زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از اطاعت استغفار