| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جناب ابوبکر پر گزرے حالانکہ آپ اپنے کسی غلام کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۱؎ تو ان کی طرف توجہ فرما کر فرمایا کہ برا کہنے والے بھی اور صدیق بھی قسم ربِ کعبہ کی ہرگز نہیں۲؎ تو اس دن جناب ابوبکر نے کچھ غلام آزاد کیے۳؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اب کبھی نہ کروں گا۴؎ یہ پانچوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی۔
شرح
۱؎ ہاں لعنت سے لغوی لعنت مراد ہے برا بھلا کہنا یا بددعاکرنا شرعی لعنت جو کفار سے خاص ہے مراد نہیں ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس لعنت سے توبہ کراتے۔ ۲؎ یعنی تم تو خالق و مخلوق کے نزدیک صدیق ہو پھر تم کسی کو برا بھلا کیسے کہتے ہو یہ دو صفتیں ایک شخص میں جمع نہیں ہوتیں صدیق کے لیے صبر ضروری ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم میں یہ عیب نہیں ہونا چاہیے نہایت ہی نفیس نصیحت ہے۔ ۳؎ یہ غلام آزاد کرنا اس غلطی کے کفارہ کے لیے تھا جو بلا شعور آپ سے سرزد ہوگئی،یہ ہے انتہائی تقویٰ بھلائیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں۔ ۴؎ چنانچہ اس کے بعد آپ نے کبھی کسی کو برا بھلا نہ کہا اپنی فطرت کو نبوت کے سانچہ میں ڈھال لیا۔