Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
699 - 975
حدیث نمبر 699
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ۱؎  ترازو میں بھاری ہیں ۲؎  فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت۳؎ اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۴؎
شرح
۱؎ یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔

۲؎  یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔

۳؎  خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر  میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔

۴؎  کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔
Flag Counter