| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا دراز حدیث بیان کی ۱؎ یہاں تک کہ فرمایا میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے وصیت کیجئے۲؎ فرمایا میں تم کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے تمام کاموں کی زینت ہے۳؎ میں نے عرض کیا کہ کچھ زیادہ کیجئے فرمایا قرآن کی تلاوت اور اللہ کا ذکر اختیار کرو ۴؎ کہ یہ تمہارے چرچے کا باعث ہے آسمان میں اور تمہارے لیے نور ہے زمین میں ۵؎ میں نے عرض کیا کچھ زیادہ فرمایئے فرمایا تم دراز خاموشی اختیار کرو ۶؎ کہ یہ شیطان کو بھگانے والا ہے اور تمہارے دینی کام پر تمہارا مدد گار ہے ۷؎ میں نے عرض کیا کہ مجھے زیادہ دیجئے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور زائل کردیتا ہے ۸؎ میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو ۹؎ میں نے عرض کیا اور زیادہ دیجئے فرمایا اللہ کی راہ میں ملامت والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۱۰؎ میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا کہ تم کو لوگوں سے وہ بات منع کرے جو تم اپنے میں جانتے ہو ۱۱؎
شرح
۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض و معروض بہت دراز ہوئی جس کا ذکر دوسری جگہ ہے یہاں نہیں۔ ۲؎ مجھے کوئی خاص تاکیدی حکم دیجئے اعلیٰ نصیحت فرمایئے۔اہلِ عرب بہت تاکیدی حکم یا اہم نصیحت کو وصیت کہتے ہیں کیونکہ انکے نزدیک وصیت ضرور پوری کی جاتی تھی،رب فرماتاہے:"یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ"۔ ۳؎ یعنی دین و دنیا کی تمام اچھی چیزوں کی زینت خوف خدا ہے۔خوفِ خدا کے ساتھ عقائد عبادات معاملات جو بھی کیے جاویں کامل ہوں گے،قران کریم میں ہے"وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ"تقویٰ دل کا غسل ہے،نیک عقائد دل کا لباس،نیک اعمال دل کا زیور سب چیزیں تقویٰ کے بعد ہیں۔ ۴؎ کیونکہ تلاوت قرآن اور ذکر اللہ تقویٰ حاصل ہونے کا ذریعہ ہے اس سے دل نرم پڑتا ہے نرمی دل اللہ کی بڑی نعمت ہے،ہر چیز نرم ہو کر ہی کچھ بنتی ہے لوہا نرم ہوکر اوزار بنتا ہے،زمین میں نرمی کے بعد دانہ و تخم بوئے جاتے ہیں،آٹا پانی سے نرم ہوکر اعلی درجہ کی غذائیں بنتا ہے،دل نرم ہوکر ولی اللہ بن جاتا ہے۔ ۵؎ اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا،اللہ کے ذاکر کا فرشتے چرچا کرتے ہیں،اس سے چہرے پر نور دل میں سرور ہوتا ہے،لوگوں میں عزت نصیب ہوتی ہے آزمائش کرلو۔شعر گر تو خواہی زیستین با آبرو ذکر اوکن ذکر اوکن ذکر او ہر گدارا ذکر او سلطان کند ذکر مرزیور ایمان بود ہر کہ دیوانہ بود در ذکر حق زیر پائش عرش و کرسی نہ فلک ۶؎ یعنی دنیاوی کلام سے خاموشی اختیارکرو ذکر اللہ سے خاموشی مراد نہیں۔ ۷؎ کیونکہ قریبًا اسّی فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں،زبان بند رکھو گناہ کم کرو گے تم پر شیطان کا داؤ کم چلے گا،خاموشی میں ذکروفکر کا زیادہ موقعہ ملے گا۔ ۸؎ کیونکہ زیادہ ہنسی دل غافل کر دیتی ہے دل کی غفلت اس کی موت ہے قلب بیدار،زبان ذاکر،جسم صابر اللہ تعالٰی کی نعمتیں ہیں۔ ۹؎ یعنی اگر حق بات لوگوں کو بری معلوم ہو تم پر اس کی وجہ سے کچھ تکلیف بھی آجائے مگر کہو ہمیشہ حق بات،اس حق بات سے مراد لوگوں کو اچھی نصیحتیں کرنا ہے۔ ۱۰؎ لوگوں کے ڈر سے اچھے کلام اچھے کام نہ چھوڑ دو دین پر سختی سے قائم رہو لوگ خواہ زندہ باد کہیں یا مردہ باد۔ ۱۱؎ یعنی لوگوں کو ان عیوب پر ملامت نہ کرو جو تم میں خود موجود ہیں پہلے اپنی اصلاح کرو پھر دوسروں کی۔ خیال رہے کہ اچھی باتیں بتانا اور چیز ہے اور عیب جوئی کچھ اور اپنے کو سب سے ناقص جانو۔شعر غافل ازایں خلق از خود اے پسر لاجرم گویند عیب یک دگر