۱؎ یہاں یا تو ساعۃً پوشیدہ ہے یا زمانًا،بعض روایات میں ہے فی الصف فی سبیل اللہ یعنی ایک ساعۃ یا کچھ دیر یا جہاد کی صف میں خاموش رہنا دنیاوی باتیں نہ کرنا۔
۲؎ یعنی اگر کوئی شخص ساٹھ سال عبادت کرے مگر زیادہ باتیں بھی کرے اچھی بری بات میں تمیز نہ کرے اس سے یہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر خاموش رہے کیونکہ خاموشی میں فکر بھی ہوئی،اصلاح نفس بھی،معارف و حقائق میں استغراق بھی،ذکر خفی کے سمندر میں غوطہ لگانا بھی،مراقبہ بھی یہ نعمتیں اگرچہ ایک ساعت کی ہوں ساٹھ سال کی خشک عبادت سے افضل ہیں اس لیے حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ ایک ساعت کی فکر ہزار سال کے خاص ذکر سے افضل ہے،خیال رہے کہ ان جیسے مقامات پر ساٹھ سال یا ستر سال سے مراد دراز زمانہ ہوتا ہے نہ کہ صرف یہ مدت۔