| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمران ابن حطان سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر کے پاس گیا تو میں نے انہیں ایک کالے کمبل میں اکیلے ٹیک لگائے بیٹھے پایا ۱؎ میں نے کہا اے ابوذر یہ گوشہ نشینی کیسی تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تنہائی بہتر ہے ہر ساتھی سے اور اچھا ساتھی بہتر ہے تنہائی سے ۲؎ اور اچھی بات بولنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی بہتر ہے بری بات بولنے سے۳؎
شرح
۱؎ اس طرح کہ اکڑوں بیٹھے تھے اور اپنے اردگرد کمبل لپیٹا ہوا تھا ہاتھوں کے حلقہ میں پنڈلیاں لیے ہوئے تھے یہ انتہائی تواضع کی بیٹھک ہے۔ ۲؎ یعنی چونکہ مجھے اس وقت کوئی نیک صالح ساتھی نہ ملا اس لیے تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اکیلا بیٹھ گیا،غالبًا کسی اجنبی جگہ میں ہوں گے مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں کوئی اور مسجد مراد ہے ورنہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ میں نیک ساتھی کی کیا کمی تھی خیرالقرون تھا۔ ۳؎ یعنی تنہائی میں انسان خاموش بیٹھے گا اور خاموشی اچھی ہے بری بات سے،برے یار کے پاس بیٹھ کر بری باتیں کرنا پڑتی ہیں اس لیے تنہائی بہتر ہے۔