۱؎ کسی واقعہ کی خبر یا کسی مسلمان پر بہتان یا فساد و شرارت کی خبر جس کی اصل کچھ نہ ہو،الکذب بہت عام ہے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں یہ بارہا کا تجربہ ہے۔ماہ رمضان کی ستائیسویں تاریخ جمعہ کے دن یعنی ۱۴ اگست ۴۷ءکو پاکستان بنا عیدالفطر کے دن نماز عید کے وقت تمام شہروں بلکہ دیہاتوں میں خبر اڑ گئی کہ سکھ مسلح ہوکر اس بستی پر حملہ آور ہورہے ہیں قریب ہی آچکے ہیں ہر گھر ہر محلہ میں شور مچ گیا لوگ تیاریاں کرکے نکل آئے حالانکہ بات غلط تھی،ہر جگہ لوگوں نے کہا کہ ابھی ایک آدمی کہہ گیا ہے خبر نہیں کون تھا پھر جو فساد شروع ہوا وہ سب نے دیکھ لیا خدا کی پناہ! اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے شیطان چھپ کر بھی دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے اور ظاہر ہوکر شکل انسانی میں نمودار ہوکر بھی لہذا ہر خبر بغیرتحقیق نہیں پھیلانا چاہیے۔اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبھی شیطان عالم آدمی کی شکل میں آکر جھوٹی حدیثیں بیان کرجاتا ہے لوگوں میں وہ جھوٹی حدیثیں پھیل جاتی ہیں اس لیے حدیث کو کتاب میں د یکھ کر اسناد وغیرہ معلوم کرکے بیان کرنا چاہیے اگرچہ یہ فرمان حضرت ابن مسعود کا ہے مگر مرفوع حدیث کے حکم میں ہے کہ ایسی بات صحابی اپنے خیال یا رائے سے بیان نہیں فرماسکتے حضور سے سن کر ہی کہہ رہے ہیں۔