۱؎ خلال سے مراد بری عادتیں ہیں اس فرمان عالی سے یا نفی مقصود ہے یا نہیں،پہلی صورت میں معنی یہ ہیں کہ جھوٹ اور خیانت ایسی بری عادتیں ہیں کہ کسی مؤمن میں یہ دونوں چیزیں اصلی پیدائشی نہیں ہوسکتیں،اگر کوئی مؤمن جھوٹا یا خائن ہوگا تو عارضی طورپر ہوگا کہ جھوٹوں خائنوں کی صحبت میں رہ کر یہ جھوٹا یا خائن بن جاوے گا اس کے علاوہ اور عیوب مؤمن میں پیدائشی ہوسکتے ہیں،دوسری صورت میں یہ معنی ہیں کہ مؤمن کو چاہیے کہ جھوٹا و خائن عادۃً نہ بنے ان عیبوں کی عادت نہ ڈالے یہ دونوں اس کی شان ایمان کے خلاف ہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰذِبُوۡنَ"۔(مرقات،لمعات)