Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
688 - 975
حدیث نمبر 688
روایت ہے حضرت خالد ابن معدان سے ۱؎ وہ حضرت معاذ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اپنے بھائی کو کسی گناہ کی عار دلائے ۲؎  تو وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا۳؎ یعنی وہ گناہ جس سے وہ توبہ کرچکا ہے۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ خالد نے معاذ ابن جبل کو نہیں پایا ۵؎
شرح
۱؎ آپ جلیل القدرعظیم الشان تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداللہ ہے،ملک شام میں مقام حمص کے رہنے والے ہیں،قبیلہ کلاع سے ہیں،ستر۷۰ صحابہ سے ملاقات کی، ۱۰۴ ھ؁ ایک سوچار ہجری میں مقام طرطوس میں آپ کی وفات ہوئی وہاں ہی قبر شریف ہے۔

۲؎  گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ توبہ کرچکا ہے یا وہ پرانا گناہ جسے لوگ بھول چکے یا خفیہ گناہ جس پر لوگ مطلع نہ ہوں اور عار دلانا توبہ کرانے کے لیے نہ ہوں محض غصہ اور جوش غضب سے ہو یہ قیود خیال میں رہیں۔

۳؎  یعنی اپنی موت سے پہلے  یہ گناہ خود کرے گا اور اس میں بدنام ہوگا مظلوم کا بدلہ ظالم سے  خود رب تعالی لیتا ہے۔

۴؎  یہ تفسیر حضرت امام احمد ابن حنبل کی ہے کہ یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس سے گنہگار توبہ کرچکا ہے ایسے گناہ کا ذکر بھی نہیں چاہیے جس گناہ میں بندہ گرفتار ہے،اس سے عار دلانا تاکہ توبہ کرے یہ تو تبلیغ ہے اس پر ثواب ہے۔

۵؎  یعنی خالد ابن معدان نے معاذ ابن جبل کا زمانہ نہ پایا کیونکہ حضرت معاذ کی وفات       ۱۸؁    اٹھارہ میں ہوئی اور خالد کی پیدائش    ۱۸ھ؁  کے بعد ہوئی۔خیال رہے کہ اتصال کے لیے راوی کا اپنے شیخ سے ملاقات کرنا ضروری نہیں صرف ہم زمانہ ہونا کافی ہے،تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے ہاں امام بخاری کے ہاں ملاقات ضروری ہے۔(مرقات)
Flag Counter