۱؎ واثلہ ابن اسقع لیثی صحابی ہیں،جب حضور انور غزوہ تبوک کے لیے جارہے تھے تو آپ ایمان لائے،تین سال حضور کی خدمت میں رہے،اصحاب صفہ سے تھے ایک سو برس عمر پائی بیت المقدس میں وفات ہوئی۔ (مرقات)آپ مشہور صحابی ہیں۔
۲؎ یعنی کسی مسلمان کو دینی یا دنیاوی آفت میں مبتلا دیکھ کر اس پر خوشی میں طعن نہ کرو بعض دفعہ خوشی میں بھی کسی پر لاحول پڑھی جاتی ہے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
مگو اندوہ خویش پیش کساں کہ لاحول گویند شادی کناں
اگر ملامت کرنا اس کی فہمائش کے لیے ہو تب جائز ہے جب کہ اس طریقہ سے اس کی اصلاح ہوسکے غرضکہ ملامت کی مختلف صورتیں ہیں۔
۳؎ یہ ہے مسلمان کی آفت پر خوشی منانے کا انجام کہ خوشی منانے والا خودگرفتار ہوجاتا ہے بارہا کا آزمودہ ہے ہمیشہ خدا سے خوف کرنا چاہیے۔