۱؎ اس طرح کہ جناب عائشہ نے بالشت دکھا کر فرمایا کہ صفیہ اتنی بڑی ہیں یعنی میرے بالشت کی برابر یہ عرض و معروض حضرت صفیہ بنت حیی کے پس پشت ہوئی اس لیے اسے غیبت کہا گیا۔معلوم ہوا کہ غیبت اشارہ سے بھی ہوجاتی ہے۔
۲؎ یعنی بظاہر یہ بات چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے مگر اتنی بڑی ہے کہ اگر اس رنگت کو پوڑیا کی شکل دے دی جاوے اوراسے سمندر میں گھول دیا جاوے تو سارے سمندر کو رنگین کردے تو یہ تمہارے دل کو یقینا گدلا کردے گی تمہارے نیک اعمال کا رنگ بھی بگاڑ دے گی،اس سے توبہ کرو اور آئندہ کبھی کسی کی غیبت نہ کرو۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرام گناہوں سے معصوم نہیں،معصوم یا فرشتے ہیں یا حضرات انبیاءکرام،یہ حضرات عادل ہیں کہ گناہ پر جمتے نہیں توبہ کرلیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ غیبت حق العبد جب ہے جب کہ اس کی خبر اس کو پہنچ جاوے جس کی غیبت کی گئی ورنہ حق اللہ ہے کہ توبہ سے معاف ہوجاتی ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کو جناب صفیہ سے معافی مانگنے کا حکم نہ دیا کیونکہ حضرت صفیہ کو اس کی خبر نہ ہوئی لہذا یہ حق اللہ رہی۔