۱؎ یعنی اگر کوئی مجھے میرے پیچھے برا کہے تو تم اس کی بات مجھ سے نہ کہو۔خیال رہے کہ یہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا نام لیا مگر ہم کو قانون بتایا کہ کوئی کسی کی غیبت اس تک نہ پہنچائے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم تو دلوں کی گہرائیوں کی بات گھروں کے اندرونی حالات سے خبردار ہیں ان سے کوئی چیز مخفی نہیں،نیز کوئی صحابی حضور انور کی شان میں گستاخی نہیں کرتے تھے نہ سامنے نہ پیچھے حضور کی گستاخی کفر ہے۔رہے منافقین حضور انور ان سے ناراض تھے خواہ کوئی انکی بات پہونچاتا یا نہ پہونچاتا ۔بہرحال حدیث بالکل واضح ہے اس پر نہ وہابی اعتراض کرسکتے ہیں نہ شیعہ۔
۲؎ کہ کسی کی عداوت کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیان قانون ہے کہ اپنے سینے صاف رکھو تاکہ ان میں مدینہ کے انوار دیکھو ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سینہ رحمت نور کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کدورت کی پہنچ نہیں۔