| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص کی چادر ہوا نے اس پر سے اڑادی اس نے ہوا پر لعنت کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو کہ یہ تو زیر فرمان ہے ۲؎ اور یقینًا جو کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس کی اہل نہ ہو تو لعنت اس پر ہی لوٹتی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤ د)
شرح
۱؎ جیسے آج بعض لوگ بیماریوں وغیرہ پر لعنت کردیتے ہیں یہ سخت برا ہے۔ ۲؎ ہوا کا نرم و سخت چلنا تیری چادر کا اڑا دینا سب کچھ اللہ تعالٰی کے حکم سے ہے ان میں اس کا کوئی قصور نہیں پھر اس پر لعنت کیسی۔ ۳؎ یعنی لعنت کرنے کا گناہ اس پر پڑے گایا خود لعنت پھٹکار رحمت سے دوری خود اس کو ملے گی۔معلوم ہوا کہ لعنت اور رحمت اپنے مستحق کو جانتی پہچانتی ہیں ان کے ٹھکانوں کو بھی جانتی ہیں حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔