Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
683 - 975
حدیث نمبر 683
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کوئی بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے ۱؎ تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف لوٹتی ہے اور اس کے سامنے زمین کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۲؎ پھر وہ داہنے بائیں پھرتی ہے۳؎ پھر جب جگہ نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی تو اگر وہ اس کا اہل ہو تو فبہا ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۴؎(ابوداؤ د)
شرح
۱؎ جیسے غبار دھواں وغیرہ بذاتِ خود اوپر چڑھتے ہیں ایسے ہی لعنت و پھٹکار بھی اوپر چڑھتی ہے مگر اسے آسمان میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں اس کا مستحق کوئی نہیں۔

۲؎  لہذا وہ لعنت زمین میں نہیں دھنس سکتی کہ وہاں بھی اس کا مستحق کوئی نہیں۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت نہ تو آسمان میں رہتے ہیں نہ زمین کے اندر بلکہ اوپر اوپر ہی مارے مارے پھرتے ہیں لہذا اس فرمان پر کوئی غبار نہیں۔

۳؎  یعنی لعنت اس حیران پریشان چیزکی طرح دوڑتی گھومتی ہے جسے اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو اور تلاش ٹھکانہ کے لیے حیران پریشان گھومے یا بطور تمثیل ارشاد ہوا ہے یا واقعہ ایسے ہی ہوتا ہے کیونکہ ہمارے تمام قول و فعل ایک شکل و حال رکھتے ہیں۔

۴؎  بہرحال لعنت یا تو ملعون پر پڑتی ہے اگر وہ اسکا اہل ہو ورنہ خود لاعن پر لہذا لعنت کرنا چاہیے ہی نہیں۔ سوچو کہ ان کا حال کیا ہوگا جو دن رات حضرات صحابہ پر تبرا اور لعن طعن کرتے رہتے ہیں،اسی طرح جو لوگ جانوروں کو،دھوپ کو،ہوا کو لعنت کردیتے ہیں،بیماریوں کو کوستے پیٹتے ہیں اس سب کا وبال خود ان پر ہی پڑتا ہے۔
Flag Counter