۱؎ یعنی یہ نہ کہو کہ تجھ پر خدا کی لعنت اللہ کی پھٹکار،نہ یہ کہو کہ تجھ پر اللہ کا غضب اللہ کا قہر وغیرہ،لعنت وغضب کی بددعا نہ کرو نہ یہ کہو کہ تو جہنم میں جائے یا تیرا ٹھکانہ دوز خ ہو یا تجھے خدا دوزخ میں یا آگ میں ڈالے۔
۲؎ خیال رہے کہ یہ لعنت و پھٹکار اور یہ بد دعائیں کسی معین مسلمان کو منع ہیں غیرمعین کو اس کے وصف سے لعنت کرنا بالکل جائز ہے جیسے"لَعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ"رہے مشرکین و کفار اگر ان کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو تو انہیں نام لے کر لعنت کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔بہرحال لعنت بد دعائیں کوئی خاص عبادت نہیں کہ اس کی عادت نہ ڈالے۔