| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو دنیا میں دو منہ والا ہوگا ۱؎ قیامت کے دن اس کی زبان آگ کی ہوگی ۲؎ (دارمی)
شرح
۱؎ دو منہ والا وہ شخص ہے جو سامنے تعریف کرے پیچھے برائی یا سامنے دوستی ظاہر کرے پیچھے دشمنی یا دو لڑے ہوئے آدمیوں کے پاس جاوے اس سے ملے تو اس کی سی کہے دوسرے سے ملے تو اس کی سی کہے ہر ایک کا ظاہری دوست بنے۔ ۲؎ حدیث شریف بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں جو رب دنیا میں مٹی کی زبان دے سکتا ہے وہ قیامت کے بعد آگ کی بھی زبان دے سکتا ہے اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اس زبان میں جو سوزش اور جلن ہوگی وہ ظاہر ہے۔