| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت سفیان ابن اسد حضرمی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ بری خیانت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے کوئی بات کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو اور تو اس میں جھوٹا ہو ۱؎(ابوداؤ د)
شرح
۱؎ یعنی جھوٹ بہرحال برا ہے مگر اس شخص سے جھوٹ بولنا جو تمہیں سچا سمجھتا ہو تم پر اعتماد کرتا ہو یہ بہت ہی برا ہےکہ اس میں جھوٹ بھی ہے اور دھوکا فریب بھی،یوں ہی اللہ رسول سے جھوٹ بولنا بڑا ہی جرم ہے کہ یہ جھوٹ بھی ہے،بے حیائی بے غیرتی،بے شرمی بھی۔اللہ تعالٰی اپنا خوف اپنے حبیب کی شرم نصیب کرے کہ یہ دو چیزیں ہی گناہوں سے بچاتی ہیں۔