Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
676 - 975
حدیث نمبر 676
روایت ہے حضرت سفیان ابن عبداللہ ثقفی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ جن چیزوں کا آپ مجھ پر خو ف کرتے ہیں ان میں زیادہ خطرناک کیا چیز ہے ۲؎  فرمایا کہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا یہ۳؎  ترمذی اور اسے صحیح کہا۔
شرح
۱؎ آپ کا نام سفیان ابن عبداللہ ابن ربیعہ ہے،کنیت ابو عمرو،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،طائف کے رہنے والے تھے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں طائف کے حاکم رہے۔

۲؎ یعنی میرے اعضاء سارے ہی خطرناک ہیں مگر ان سب میں زیادہ خطرناک کون سا عضو ہے جو مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچاسکتا ہے۔

۳؎ حضور انور نے خود سائل کی زبان نہ پکڑی اس لیے کہ اس میں تکلف ہوتا اور یہ احتمال ہوتا کہ شاید صرف ان کی زبان ہی خطرناک ہوگی دوسروں کی نہیں اپنی زبان شریف پکڑنے میں یہ دونوں باتیں نہیں،نیز اشارہ کیا نام نہ لے دیا کہ اشارہ فرمانے میں زیادہ اہتمام ہے،چونکہ کفر و شرک اور اکثر بڑے گناہ زبان سے ہوتے ہیں،نیز زیادہ گناہ اور ہر وقت گناہ زبان سے ہوتے ہیں اس لیے اسی کو زیادہ خطرناک قرار دیا دیگر اعضاء کے گناہوں میں بھی زبان کا دخل ہوتا ہے چوری،زنا،شراب خوری،قتل وغیرہ تمام جرموں میں پہلے زبان کام کرتی ہے پھر باقی اعضاءکہ ان کاموں کے مشورے زبان سے ہی ہوتے ہیں،میدان زبان بناتی ہے پھر اس پر چلتے ہیں  باقی اعضاء ،یہ ہی حال نیکیوں کا  ہے  کہ زیادہ نیکیاں ز بان سے ہوتی ہے  اورباقی اعضاءکی نیکیوں میں بھی زبان کا حصہ ضرور ہوتا ہے دوسرے اعضاء کی نیکیاں خاص وقتوں میں ہوتی ہیں مگر زبان کی نیکیاں ہر وقت ہوتی رہتی ہیں۔
Flag Counter