| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ مبارک ہے جنت کی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ شاید غیر مفید خبر میں گفتگو کی یا نہ گھٹنے والی چیز میں بخل کیا ہو ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی میری طرف سے جنت کی مبارک باد قبول کر کہ تو مؤمن متقی صحابی ہو کر دنیا سے گیا اس سے بڑھ کر کیا درجہ ہوسکتا ہے،یہ خطاب اس میت سے ہے۔ ۲؎ مطلب یہ ہے کہ فوری جنتی ہونے کا فیصلہ کسی کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔ممکن ہے کہ اس شخص نے بے کار بات کرلی ہو یا مال یا علم میں بخل کیا ہو اس کے حساب میں گرفتار ہو جنت کا داخلہ اس کے حساب سے فراغت کے بعد میسر ہو۔