Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
672 - 975
حدیث نمبر 672
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملا تو میں نے عرض کیا کہ نجات کا ذریعہ کیا ہے ۲؎  فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو ۳؎  اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے ۴؎ اور اپنی خطاؤ ں پر رو ۵؎(احمد،ترمذی)
شرح
۱؎  آپ قبیلہ جہینہ سے ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے پھر معزول کردیئے گئے،مصر میں ہی میں آپ کی وفات ہوئی،  ۵۸ھ؁  میں۔(اکمال)

۲؎ یعنی ہم دین و دنیا کی مصیبتوں سے کیسے بچیں دنیا میں آفتیں تو گردوغبار کی طرح پھیلتی ہیں ان سے بچاؤ  کی تدبیر کیا ہے۔

۳؎  املك الف کے کسرہ سے باب ضرب کا امر ہے ملك بمعنی قبضہ قابو ہے یعنی اپنی زبان کو قبضہ میں رکھو اس کی حفاظت کرو بری بات بولنے سے روکو۔

۴؎ یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ  لوگوں کے پاس بلاوجہ نہ جاؤ  گھر سے نہ گھبراؤ  اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا آفتوں سے امان ہے۔بزرگ فرماتے ہیں کہ سکوت،لزوم بیوت اور قناعت بالقوت الی ان یموت امان کی چابی ہے یعنی خاموشی،گھر میں رہنا،رب کی عطا پر قناعت،موت تک اس پر قائم رہنا۔

۵؎ یعنی اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم ہوکر رونا اختیار کرو دوسروں کی عیب جوئی کی بجائے اپنی عیب جوئی کرو۔
Flag Counter