۱؎ چونکہ راوی کو یہ یاد نہ رہا کہ حضرت ابو سعید خدری نے کن الفاظ سے حدیث کو مرفوع کیا سمعت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہا یا خالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لیے رفعہ کہہ دیا۔ (مرقات)
۲؎ تکفر بنا ہے کفر سے بمعنی ذلت و عاجزی و خواری،کہا جاتا ہے کفرا لیھودی یعنی یہودی ذلیل ہوگیا اپنے صاحب کے آگے جھک گیا۔
۳؎ یعنی نفع نقصان راحت و آرام تکالیف و آلام میں ہم تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تو خراب ہوگی ہماری شامت آجاوے گی تو درست ہوگی ہماری عزت ہوگی۔خیال رہے کہ زبان دل کی ترجمان ہے اس کی اچھائی برائی دل کی اچھائی برائی کا پتہ دیتی ہے ۔عرب کہتے ہیں :لسان الانسان الہ البیان للکفر والایمان لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ دل کے درست ہوجانے سے تمام جسم درست ہوجاتا ہے کہ دل و زبان کا حال یکساں ہے،بارہا منافقین کی زبان ان کے دل کا نشان دے دیتی تھی،دل دیگ ہے زبان اس کا چمچہ ہے۔