Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
673 - 975
حدیث نمبر 673
روایت ہے حضرت ابو سعید سے اسے مرفوع فرمایا ۱؎ کہ فرمایا جب انسان سویرا پاتا ہے تو سارے اعضاء زبان کی خوشامد کرتے ہیں۲؎  کہتے ہیں ہمارے بارے میں اللہ تعالٰی سے ڈر کہ ہم تیرے ساتھ ہیں تو  اگرسیدھی رہے گی ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھے ہوں گے ۳؎(ترمذی)
شرح
۱؎  چونکہ راوی کو یہ یاد نہ رہا کہ حضرت ابو سعید خدری نے کن الفاظ سے حدیث کو مرفوع کیا سمعت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہا یا خالی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم اس لیے رفعہ کہہ دیا۔ (مرقات)

۲؎  تکفر بنا ہے کفر سے بمعنی ذلت و عاجزی و خواری،کہا جاتا ہے کفرا لیھودی یعنی یہودی ذلیل ہوگیا اپنے صاحب کے آگے جھک گیا۔

۳؎  یعنی نفع نقصان راحت و آرام تکالیف و آلام میں ہم تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تو خراب ہوگی ہماری شامت آجاوے گی تو درست ہوگی ہماری عزت ہوگی۔خیال رہے کہ زبان دل کی ترجمان ہے اس کی اچھائی برائی دل کی اچھائی برائی کا پتہ دیتی ہے ۔عرب کہتے ہیں :لسان الانسان الہ البیان للکفر والایمان لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ دل کے درست ہوجانے سے تمام جسم درست ہوجاتا ہے کہ دل و زبان کا حال یکساں ہے،بارہا منافقین کی زبان ان کے دل کا نشان دے دیتی تھی،دل دیگ ہے زبان اس کا چمچہ ہے۔
Flag Counter