۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو میری بات سے خاموش رہا وہ دنیا و دین کی آفات سے نجات پا گیا۔دوسرے یہ کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاؤ ں سے محفوظ رہا۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ کلام چارقسم کے ہیں: خالص مضر،خالص مفید،مضر بھی مفید بھی،نہ مضر نہ مفید۔خالص مضر سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے،خالص مفید کلام ضرور کرے،جو کلام مضر بھی ہو مفید بھی ا س کے بولنے میں احتیاط کرے۔بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وقت ضائع کرنا ہے ان کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہذا خاموشی بہتر ہے۔(اشعہ)