Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
671 - 975
حدیث نمبر 671
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو خاموش رہا نجات پاگیا ۱؎(احمد،ترمذی،دارمی،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو میری بات سے خاموش رہا وہ دنیا و دین کی آفات سے نجات پا گیا۔دوسرے یہ کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاؤ ں سے محفوظ رہا۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ کلام چارقسم کے ہیں: خالص مضر،خالص مفید،مضر بھی مفید بھی،نہ مضر نہ مفید۔خالص مضر سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے،خالص مفید  کلام  ضرور کرے،جو کلام مضر بھی ہو  مفید بھی ا س کے بولنے  میں احتیاط کرے۔بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وقت ضائع کرنا ہے ان کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہذا خاموشی بہتر ہے۔(اشعہ)
Flag Counter