Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
670 - 975
حدیث نمبر 670
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بندہ کوئی بات کرتا ہے نہیں کہتا مگر اس لیے کہ اس سے لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے وہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ نیچا گر جاتا ہے ۱؎ وہ اپنی زبان سے پھسلتا ہے اس سے سخت پھسلنی جو اپنے قدم سے پھسلتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ اس فرمان عالی سے آج کل کے ڈوم مراثی مسخرے،بھانڈ بھنڈیلے عبرت پکڑیں جو لوگوں کو ہنسا کر گزارہ کرتے ہیں جن کی کمائی صرف لوگوں کی ہنسائی ہے،نیز اس سے وہ واعظین بھی عبرت پکڑیں جو منبر رسول پر وعظ کرتے ہیں صرف ہنسانے کے لیے ان کے وعظ کی کامیابی لوگوں کے قہقہہ سے ہوتی ہے۔پناہ بخدا ان کے وعظ میں پتہ نہیں چلتا کہ دین کا وعظ ہورہا ہے یا سینما کا کوئی دل لگی شو۔

۲؎  یعنی پاؤ ں کی پھسلن سے زبان کی لغزش زیادہ خطرناک ہے کہ پاؤ ں کی لغزش سے بدن چوٹ کھاتا ہے مگر زبان کی لغزش سے دل،جان،ایمان زخمی ہوتا ہے۔زبان کی لغزش سے ہی قتل و خون ہوتے ہیں،زبان ہی کی لغزش سے انسان کا فرو بے دین ہوجاتا ہے ابلیس اپنی زبان کی لغزش کی سزا اب تک پارہا ہے۔
Flag Counter