۱؎ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری بصری تابعی ہیں،ثقہ ہیں،ان کے والد حکیم ابن معاویہ کی صحابیت میں اختلاف ہے،معاویہ ابن حیدہ صحابی ہیں مگر صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں ان کا ذکر نہ فرمایا۔ (مرقات)
۲؎ لوگوں کو ہنسانے کے لیے تو جھوٹ بولنا ہمیشہ ہی جرم بلکہ ڈبل جرم مگر لوگوں کو منانے کے لیے سچی بات کہنا اگر کبھی کبھی ہو تو جرم نہیں۔خوش طبعی اچھی چیز ہے مگر اس کا عادی بن جانا گناہ ہے،کسی پریشان یا مغموم کو ہنسا دینے کے لیے اچھی و سچی دل لگی کی بات کہہ دینا ثواب ہے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ہنسا دینے کے لیے اپنا گھریلو واقعہ بیان فرمایا جب کہ حضور نے اپنی ازواج پاک سے ایلاء کیا تھا یہ سنت فاروقی ہے۔بہرحال ایسے جائز کاموں میں بھی اعتدال چاہیے ان کا عادی بن جانا اچھا نہیں۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ خوش طبعی کرنا ہو تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سی خوش طبعی کرے جو بالکل حق ہوتی تھی۔(مرقات)
۳؎ ویل کے معنی ہیں خرابی،افسوس،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام بھی ویل ہے۔یہاں بمعنی خرابی۔تین بار ویل فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ ایسے شخص کیلئے دنیا میں بھی خرابی ہے،برزخ میں بھی ،آخرت میں بھی۔