۱؎ یعنی جو کھانا کھا کر ہاتھ نہ دھوئے یوں کھانے کی چکنائی اس کے ہاتھ میں لگی رہے اور دوپہری میں یا رات میں اسی طرح سوجائے۔
۲؎ یہاں مصیبت سے مراد چوہے یا سانپ کا کاٹ جانا ہے کہ یہ دونوں جانور کھانے کی خوشبو پر دوڑتے ہیں یا اس سے مراد برص کی بیماری ہے کہ کھانے کے سنے ہوئے ہاتھ جسم کے پسینہ سے لگ کر جہاں چھو جائیں وہاں کوڑھ کے سفید داغ پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔(مرقات و اشعہ)
۳؎ نہ کسی شخص کو برا کہے نہ اپنی تقدیر پر اعتراض کرے کہ قصور خود اس کا اپنا ہے۔مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص کھانے کے بھرے ہوئے ہاتھ لے کر نہ سویا کرے۔