۱؎ پیالہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اکیلا آدمی اکثر پیالے میں کھاتا ہے بڑے برتن بڑی تھالی میں جماعت کھاتی ہے۔اکیلا کھانے والا اگر چھوڑے تو اتنا چھوڑے کہ دوسرا کھاسکے ورنہ پیالہ خوب صاف کردے،یہ ہی حکم چاول وغیرہ کا ہے۔
۲؎ حدیث بالکل ظاہری معنی پر ہے تاویل ہیر پھیر کی کوئی ضرورت نہیں۔واقعی پیالہ ایسے کھانے والے کے لیے دعا کرتا ہےکیونکہ اس میں برتن کی صفائی ہے۔کھانے کا ادب ہےکھانے کو بربادی سے بچانا ہے۔برتن میں چھوڑنے سے اس پر مکھیاں بھنکتی ہیں،وہ کھانا نالیوں،گندگیوں میں دھو کر پھینک دیا جاتا ہے جس سے اس کی سخت بے ادبی ہوتی ہے،اگر دو تین اشرفی برتن کھانا برباد ہو تو ایک شہر میں کئی من کھانا برباد ہوگا غرضیکہ برتن چاٹنے میں بہت حکمتیں ہیں۔