| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ سچ کو لازم کرلو کیونکہ سچ نیکی کی طرف ہدایت دیتا ہے ۱؎ اور نیکی جنت کی طرف ہادی ہے اور انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش کرتا رہتا ہےحتی کہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے۲؎ اور جھوٹ سے بچو کہ جھوٹ بدکاری کی طرف رہبری کرتا ہے اور یہ بدکاری آگ کی طرف ہادی ہے۳؎ اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کی تلاش کرتا رہتا ہے حتی کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتاہے۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا سچائی بھلائی ہے اور بھلائی جنت کی طرف رہبری کرتی ہے اور جھوٹ بدکاری ہے اور بدکاری آگ کی طرف رہبری کرتی ہے ۵؎
شرح
۱؎ یعنی جو شخص سچ بولنے کا عادی ہوجاوے اللہ تعالٰی اسے نیک کار بنادے گا اس کی عادت اچھے کام کرنے کی ہوجاوے گی،اس کی برکت سے وہ مرتے وقت تک نیک رہے گا برائیوں سے بچے گا۔ ۲؎ اور جو اللہ کے نزدیک صدیق ہوجاوے اس کا خاتمہ اچھا ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے ہر قسم کا ثواب پاتا ہے اور دنیا بھی اسے سچا کہنے اچھا سمجھنے لگتی ہے،اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ ۳؎ یعنی جھوٹا آدمی آگے چل کر پکا فاسق و فاجر بن جاتا ہے جھوٹ ہزار ہا گناہوں تک پہنچادیتا ہے،تجربہ بھی اسی پر شاہد ہے۔سب سے پہلے جھوٹ شیطان نے بولا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں پہلا تقیہ پہلا جھوٹ شیطان کا کام تھا۔ ۴؎ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر یہ شخص ہر قسم کے گناہوں میں پھنس جاتا ہے اور قدرتی طور پر لوگوں کو اس کا اعتبار نہیں رہتا لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ ۵؎ یہ حدیث بہت طریقوں سے مروی ہے جنہیں مسلم،بخاری،جامع صغیر وغیرہ نے روایت فرمایا وہ تمام الفاظ یہاں مرقات نے جمع فرمائے۔