Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
660 - 975
حدیث نمبر 660
روایت ہے حضرت ام کلثوم سے فرماتی ہیں ۱؎  فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرادے اور کہے خیر بات اور پہنچائے خیر بات ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ ام کلثوم بنت رسول اللہ نہیں بلکہ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابو معیط ہیں،مکہ معظمہ میں اسلام لائیں اور وہاں سے پیدل مدینہ منورہ پہنچیں،حضرت زید ابن حارثہ کے نکاح میں آئیں،جب غزوہ موتہ میں جناب زید شہید ہوگئے تو ان سے زبیر ابن عوام نے نکاح کرلیا انہوں نے طلاق دے دی تو ان سے عبدالرحمن ابن عوف نے نکاح کرلیا،ان سے دو بیٹے ہوئے ابراہیم اور حمید پھر عبدالرحمن کی وفات کے بعد عمرو ابن عاص کے نکاح میں آئیں اور اس نکاح سے ایک ماہ بعد وفات پاگئی،حضرت عثمان غنی کی اخیافی بہن ہیں،آپ سے آپ  کے صاحبزادہ حمید نے احادیث روایت کیں۔(مرقات)

۲؎ یعنی جو مسلمان دو لڑے ہوئے مسلمانوں کے درمیان جھوٹی خبریں پہنچا کر ان میں صلح کرادے تو وہ گنہگار نہیں اور یہ جھوٹ گناہ نہیں مثلًا زید و عمرو لڑے ہوئے ہیں یہ زید سے کہے کہ عمرو نے آپ کو سلام کہا ہے اور وہ آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں،عمرو کے متعلق بھی یہی کہے حتی کہ ان کی صلح ہوجائے تو یہ شخص ثواب پائے گا۔خیال رہے کہ چندصورتوں میں جھوٹ جائز ہے ان میں سے ایک تو یہ۔دوسرے کسی کا جان و مال محفوظ کرنے دشمن سے بچانے کے لیے جھوٹ بولنا بلکہ بعض جگہ جھوٹ عبادت ہے جیسے کسی متقی پرہیزگار کا اپنے کو گنہگارکہنا عبادت ہے اور بعض سچ کفر ہوجاتا ہے شیطان نے کہا تھا"رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ"سچ کہا تھا ہدایت و گمراہی اللہ ہی کی طرف سے ہے مگر شیطان ہوگیا کافر۔
Flag Counter