Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
656 - 975
حدیث نمبر 656
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کوئی شخص کہے کہ لوگ ہلاک ہوگئے تو اس نے انہیں ہلاک کردیا ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ اھلکھم کی دو قراءتیں ہیں کاف کے ضمہ سے یعنی صیغہ اسم تفضیل ہو اور کاف کے فتحہ سے ماضی۔یعنی جو مسلمانوں کے متعلق یہ کہتا  رہے کہ سارے مسلمان ہلاک ہوگئے،رحمت خدا سے دور ہوگئے،بے دینی ہوگئے تو ان سب میں زیادہ ہلاک ہونے والا یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو رحمت الٰہی سے دور سمجھ رہا ہے یا جو لوگوں کو رحمت الٰہی سے مایوس کرے  اور  کہے کہ لوگ برباد ہوگئے،کافر ہوگئے،فاسق ہوگئے تو ان لوگوں کو رب تعالٰی نے ہلاک نہ کیا بلکہ اس نے ہلاک کیا اگر لوگ مایوس ہوکر گنہگار بن جاویں تو مجرم یہ ہوگا۔مسلمان کہتے ہیں گنہگار ہوں مگر ان شاءاللہ رحمت الٰہی ان کی دستگیری کرے گی انہیں سے کام لے گی کوئی انہیں ابھارنے والا ہو۔ڈاکٹر اقبال نے کیا خوب کہا۔شعر

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے 	ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 

رحمت اللعالمین کی امت غافل ہوجاتی ہے اسے جگاتے رہو کام لیتے رہو یہ جاگ اٹھے تو بہت کام کرتی ہے کیوں نہ ہو کہ حضور کی ان پر رحمت ہے۔شعر

عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت	وہ آئے لیکن آئے رحمۃ اللعالمین ہو کر
Flag Counter