۱؎ صدیق کے لغوی معنی ہیں بہت سچا یہ صدیق کا مبالغہ ہے۔صادق وہ جو جھوٹ نہ بولے،صدیق وہ جو جھوٹ نہ بول سکے،صادق وہ جو ایک آدھ بار سچ بولے،صدیق وہ جو ہمیشہ سچ بولا کرے،صادق وہ جو کلام کا سچا ہو، صدیق وہ جو کام کلام ہر وصف کا سچا ہو،صادق وہ جو وہ کہے جو واقعہ ہو،صدیق وہ کہ جو کہہ دے واقعہ ایسا ہی ہوجاوے۔صوفیاء کے نزدیک صدیق ایک درجہ والا جس کا مقام نبی کے بعد بغیر واسطہ بغیر فاصلہ کے ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیۡقِیۡنَ"اسلام میں پہلے صدیق حضرت ابوبکر صدیق اکبر ہیں۔
۲؎ یعنی جسے اللہ تعالٰی صدیق بنائے وہ لوگوں پر لعنت کرنے کا عادی نہیں ہوتا کیونکہ صد یقیت کو نبوت سے بہت ہی قرب ہے کہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے،حضرات انبیاء رحمت والے ہوتے ہیں نہ کہ لعنت بھیجنے والے اور نہ عذاب کی دعائیں کرنے والے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جن کے مذہب میں تبراولعنت بہترین عبادت ہے۔نعوذ باللہ! الحمدللہ کہ اہل سنت نے لعنت کو نہ عبادت سمجھی نہ عادت ڈالی حتی کہ جو لوگ لعنت کے مستحق بھی ہیں ان پر بھی لعنت کرنا اپنا شیوہ نہیں بناتے،ہمارے ہاں ابلیس یا ابوجہل یا فرعون پر لعنت کرتے رہنا عبادت نہیں بلکہ عبث کام ہے۔خیال رہے کہ لعنت دو قسم کی ہے: ایک تو اللہ تعالٰی کی رحمت عامہ سے دوری یہ صرف کفار کےلیے،دوسری رحمت خاصہ یعنی بلندی درجات سے محرومی یہ گنہگار مسلمان کو بھی ہوسکتی ہے،جن کفار کا کفر پر مرنا دلیل شرعی سے ثابت ہو ان پر نام لےکر لعنت کرنا درست ہے۔دوسروں کو وصف سے لعنت کرسکتے ہیں نام لے کر نہیں کرسکتے یہ کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹوں پر یا ظالموں پر خدا کی لعنت،یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں پر جو جھوٹا ہے لعنت،یہ بھی خیال رہے کہ اللہ کی لعنت کے معنی ہیں رحمت سے دورکرنا،بندوں کی لعنت کے معنی ہیں اس دوری کی بد دعا کرنا۔(اشعہ)