| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی دونوں کی برائیوں کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہوگا جب کہ دوسرا زیادتی نہ کرجاوے صرف اگلے کو جواب دے۔خیال رہے کہ گالی کے بدلےمیں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔سبّ کے معنی ہیں برا کہنا نہ کہ گالی دینا ، گالی دینے والے سے بدلہ اور طرح لو اسے گالی نہ دو اگر کتا کاٹ لے تو تم اسے کاٹو مت بلکہ لکڑی سے مار دو لہذا حدیث واضح اس میں گالیاں بکنے کی اجازت نہ دی گئی۔