Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
647 - 975
باب حفظ اللسان و الغیبۃ و الشتم

زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ مشکوۃ  شریف کے بعض نسخوں میں من الغیبۃ والشتم ہے تو معنی ظاہر ہیں یعنی اپنی زبان کو غیبت اور گالی سے محفوظ رکھنا،عام نسخوں میں واؤ سے ہے تب معنی یہ ہوں گے کہ اپنی زبان کو ہر بری چیز خصوصًا غیبت و گالی سے محفوظ رکھنا۔خیال رہے کہ کسی مسلمان کے غیرمشہور عیب اس کے پس پشت بلا ضرورۃ بیان کرنا غیبت ہے خواہ وہ شخص زندہ ہو یا مردہ موجود ہو یا غائب۔غیبت حرام ہے اور ہر فحش کلام شتم ہے، سبّ عام ہے شتم خاص۔غیبت کی یہ تعریف اور تعریف کی یہ قیود خیال میں رکھنی چاہیے۔لغوی غیبت کبھی حرام ہے،کبھی کفر،کبھی جائز،کبھی واجب،فرض۔مسلمان کی غیبت بلا وجہ حرام   ہے،انبیاء و  اولیاء کی غیبت جو  جنت کی بشارت یافتہ ہیں کفر ہیں جیسے روافض کا تبرا  اور  راویان حدیث کی  غیبت واجب   تاکہ احادیث صحیح وغیرصحیح مخلوط نہ ہوجاویں،کسی کے شر سے مسلمان کو بچانے کے لیے غیبت کرنا واجب ہے۔
حدیث نمبر 647
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی مجھے اپنے دو جبڑوں اور دو پاؤ ں کے درمیان کی چیزوں کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎  دو جبڑوں کے درمیان کی چیز زبان و تالو وغیرہ ہے اور دوپاؤ ں کے بیچ کی چیز شرمگاہ ہے یعنی اپنی زبان کو جھوٹ غیبت ناجائز باتیں کرنے سے بچائے،اپنے منہ کو حرام غذا سے محفوظ رکھے،اپنی شرمگاہ کو زنا کے قریب نہ جانے دے ظاہر بات ہے کہ ایسا مسلمان مؤمن متقی ہوگا۔خیال رہے کہ قریبًا اسی۸۰ فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں جو اپنی زبان کی پابندی کرے وہ تو چوری ڈکیتی قتل بھی نہیں کرتا،انسان جرم جب ہی کرتا ہے جب کہ جھوٹ بولنے پر آمادہ ہوجائے کہ اگر پکڑا گیا تو میں انکار کردوں گا،جھوٹ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔خیال رہے کہ حضور کی یہ ضمانت تا قیامت انسانوں کے لیے ہے اور حضور کی ضمانت خدا کی ضمانت ہے۔
Flag Counter