Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
648 - 975
حدیث نمبر 648
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بندہ رضاء الٰہی کا کوئی کلمہ بول دیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا اللہ تعالٰی اس کی وجہ سے اس کے درجے بڑھا دیتا ہے ۱؎  اور بندہ اللہ کی ناراضی کی کوئی بات کردیتا ہے جس کی پرواہ بھی نہیں کرتا اس کی وجہ سے دوزخ میں گر جاتاہے۲؎(بخاری)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے آگ میں گرجاتا ہے مشرق و مغرب کے فاصلے کے برابر۳؎
شرح
۱؎ یعنی بعض باتیں انسان کے نزدیک معمولی ہوتی ہیں اللہ تعالٰی کے نزدیک عظیم الشان کہ بولنے والے کو عظیم الشان بنا دیتی ہیں۔

۲؎  یعنی بعض باتیں انسان کی نگاہ میں نہایت معمولی ہوتی ہیں رب تعالٰی کے نزدیک بدترین جرم کہ انسان کو دوزخی بنا دیتی ہیں لہذا زبان کی بہت ہی حفاظت چاہیے۔

۳؎  دوزخ میں جس قدر نیچائی زیادہ اسی قدر عذاب سخت،جنت میں جس قدر اونچائی زیادہ اسی قدر ثواب اعلیٰ، دوزخ کا طبقہ ہاویہ سب سے نیچا ہے۔مطلب یہ ہے کہ بدعملی کی وجہ سے انسان دوزخ کے اونچے طبقے میں جاوے گا جہاں عذاب ہلکا ہے مگر برے کلام کی وجہ سے نیچے طبقہ میں جاوے گا جہاں عذاب سخت تر ہے۔رب تعالٰی نے انسان کو ارکان(اعضاء)جنان(دل)لسان(زبان)عطا فرمائے ہیں ارکان و جنان کے گناہوں سے لسان یعنی زبان کا جرم بدترین ہے۔
Flag Counter