Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
646 - 975
حدیث نمبر 646
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ ایک راستہ میں تھا کہ آپ نے باجہ کی آواز سنی ۱؎  تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں لگالیں اور راستہ سے دور ہٹ گئے دوسری طرف پھر دور جا چکنے کے بعد مجھ سے فرمایا کہ اے نافع کیا تم کچھ سن رہے ہو میں نے کہا نہیں تب آپ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں سے نکالیں۲؎ فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا تو حضور نے بانسی کی آواز سنی ۳؎  تو یونہی کیا جو میں نے کیا،نافع فرماتے ہیں کہ اس وقت میں چھوٹا تھا۴؎(احمد،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی صرف باجہ کی آواز سنی بغیر گانے کی آواز کے غالبًا گانا بھی ہورہا ہوگا اس کی آوا زیہاں نہیں آرہی ہوگی، ڈھول کی آواز دور تک جاتی ہے گانے والے کی آواز تھوڑی دور ہی پہنچتی ہے۔

۲؎  یہ آپ کا انتہائی تقویٰ ہے جس پر عمل آج کل قریبًا ناممکن ہے آج ریڈیو لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ بستی کے گوشہ گوشہ میں گانے باجوں کی تیز آوازیں پہنچتی ہیں کبھی تو لوگوں کو سونے نہیں دیتیں۔

۳؎  یراع ی اور ر کے فتحہ سے بمعنی الغوزہ یا بانسلی بانس کے ٹکڑے میں چند سوراخ کر کے اسے منہ سے بجاتے ہیں۔

۴؎  یہ ایک شبہ کا جواب ہے کہ سیدنا عبداللہ ابن عمر نے خود تو کانوں میں انگلیاں دے لیں تاکہ گانے باجے کی آواز نہ سنیں مگر اپنے غلام حضرت نافع کو اس کا حکم نہ دیا اس کی وجہ کیا ہے،جواب یہ دیا کہ میں اس وقت نابالغ بچہ تھا مجھ پر احکام شرعیہ خصوصًا ورع و تقویٰ کے احکام جاری نہ تھے ورنہ مجھے بھی آپ اس کا حکم دیتے۔غالبًا حضرت عبداللہ ابن عمر بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس واقعہ پر نابالغ ہوں گے۔خیال رہے کہ ان دونوں موقعوں پر گانے باجہ والا آدمی کوئی غیر مسلم ذمی ہوگا اس لیے آپ نے اسے گانے سے نہ روکا خود کانوں میں انگلی دے لی کہ کفار کو ان جیسے کاموں سے مسلمان نہیں روکتے۔(مرقات)لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضرات صحابہ کے گھروں سے گانے باجوں کی آوازیں آتی تھیں نہ یہ کہ حضرت ابن عمر نے گانے والوں کو منع کیوں نہ فرمایا۔
Flag Counter