۱؎ یعنی مرد کا گانا خود گانے والے اور سننے والے کے دل میں منافقت پیداکرتا ہے لہذا عورت کا گانا سننا یا عورت و مرد کا مل کر گانا یا باجہ پر گانا اس سے بدتر ہے۔عرب کہتے ہیں الغناء رقیۃ الزنا یعنی گانا زنا کا منتر ہے،مراد گانے سے وہ ہی ہے جو اوپر عرض کیا۔خوش الحانی سے نعت شریف حضرت حسان پڑھتے تھے، حضور کی تشریف آوری کے موقعہ پر مدینہ منورہ کی بنی نجار کی بچیوں نے گیت گئے ہیں،شادی عید کے موقع پر بچیوں کو حضور نے اچھے گیت گانے کی اجازت دی،اجنبی عورتوں سے مرد نعت بھی نہ سنیں کہ آواز میں دلکشی ہوتی ہے اسی لیے عورتوں کو اذان دینا،تکبیر کہنا،خوش الحانی سے اجنبیوں کے سامنے تلاوت قرآن کرنا سب ممنوع ہے عورت کی آوازبھی سترہے۔