Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
644 - 975
حدیث نمبر 644
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں اس حال میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مقام عرج میں چل رہے تھے ۱؎ کہ ایک شاعر شعر پڑھتا سامنے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا پکڑ لو شیطان کو یا روک لو شیطان کو ۲؎ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرا ہوا اس کے لیے اس سے اچھا ہے کہ شعروں سے بھرا ہو ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ عرج یمن کا ایک شہر بھی ہے،علاقہ ہذیل میں ایک میدان بھی،مکہ معظمہ کے راستہ میں ایک منزل بھی، مدینہ منورہ سے ۷۸ اٹھتر میل پر،یہاں یہ تیسرے معنی مراد ہیں۔

۲؎ یعنی یہ شاعر انسان شیطان ہے اسے شعر پڑھنے سے روک دو۔شاید اس کی اشعار گندے واہیات تھے جن میں زنا،شراب،عورتوں کی تعریفیں تھیں جیساکہ جاہلیت کے شعراء کے کلام میں دیکھاجاتا ہے اس لیے روک دیا گیا۔

۳؎ اس کی شرح پہلے عرض کی گئی کہ یا برے اشعار مراد ہیں یا اشعار کا طبیعت پر غلبہ کہ اسے گانے کے سواء کچھ سوجھے ہی نہیں اس لیے ارشاد ہو ان یمتلی۔
Flag Counter