Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
64 - 975
حدیث نمبر 64
روایت ہے حضرت ام منذر سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے آپ کے ساتھ جناب علی تھے اور ہمارے ہاں خوشے لٹکے ہوئے تھے ۲؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کھانے لگے اور علی بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے۳؎  تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جناب علی سے فرمایا اے علی ٹھہرو۴؎ کیونکہ تم کمزور ہو ۵؎ فرماتی ہیں پھر میں نے ان حضرات کے لیے چقندر اور جو تیار کیے ۶؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی اس سے لو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہت موافق ہے ۷؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ کا نام لیلی بنت قیس ہے،انصاریہ عدویہ ہیں،کنیت ام المنذر،صحابیہ ہیں،قدیم الاسلام ہیں،چنانچہ آپ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔

۲؎  دوالی جمع ہے دالیہ کی،دالیہ کچی کھجوروں کے خوشوں کو کہتے ہیں۔اس زمانہ میں باغ والے لوگ اپنے باغوں اور گھروں میں کھجوروں کے خوشے لٹکا دیتے تھے تاکہ جو بیلی ملاقاتی آئے پہلے ان میں سے کھائے گویا یہ بھی خاطر تواضع کا ایک طریقہ تھا۔

۳؎  ظاہر یہ ہے کہ دونوں حضرات نے کھڑے کھڑے کھائے مگر یہ کھڑے کھڑے کھانا فیشن کے طور پر نہ تھا بلکہ اس خوشے سے توڑ توڑ کر کھانا کھڑے ہو کر ہی ممکن تھا اور ہوسکتا ہے کہ بیٹھ کرکھاتے ہوں مگر بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد جناب علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھانا کھڑے ہو کر تھا،مرقات نے اس کو ترجیح دی۔

۴؎ یعنی تم نہ کھاؤ کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لو وجہ آگے آرہی ہے۔

۵؎  ناقہ بنا ہے نقاھت سے۔نقاہت وہ کمزوری ہے جو بیماری سے اٹھنے کے بعد بیمار میں رہتی ہے،غالبًا آپ بیمار رہ چکے ہوں گے۔

۶؎  یعنی میں ان حضرات کے لیے چقندر اور جو کا لپٹا(سیرا)تیار کیا۔لہم کا مرجع حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں ضمیر کا جمع لانا تعظیمًا ہے یا اس کا مرجع حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔عرب والے کبھی دو کو جمع بول دیتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ کچھ اور صحابہ بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔واللہ اعلم!

۷؎  یہاں اوفق بمعنی موافق ہے، مقابل ضرر کا،یعنی تمہارے لیے کھجوریں مضر ہیں،یہ لپٹا(سیرا)موافق و مفید ہے کیونکہ جَو بہت ہی زود ہضم ہے۔اطباء بیماروں کو آتش جو بتاتے ہیں،چقندر بھی ہلکی غذاہے اور معتدل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم حکیم جسمانی بھی ہیں۔دوائیں،پرہیز،مضر و مفید غذائیں سب کچھ جانتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار بلکہ بیماری سے اٹھنے والے کمزور کو پرہیز لازم ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ دوا سے زیادہ پرہیز ضروری ہے دوا بغیر پرہیز ایسی ہے جیسے نماز بغیر وضو۔
Flag Counter