Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
63 - 975
حدیث نمبر 63
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گوشت چھری سے نہ کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کے معمولات سے ہے ۱؎  اور اسے نوچ کر کھاؤ کہ مزیدار اور جلد اترنے والا ہے ۲؎ ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان اور ان دونوں نے کہا یہ قوی نہیں۳؎
شرح
۱؎ یعنی کھانے کو ہاتھ نہ لگانا چھری کانٹے سے کھانا،گوشت کی اگرچہ چھوٹی بوٹیاں ہوں خوب گلی ہوں پھر بھی چھری سے کھانا طریقہ یہودیوں عیسائیوں کا ہے۔اس سے بچو تم ہاتھ سے کھاؤ،ہاں اگر بڑے بڑے پارچے کھائے گئے ہوں تو کھاتے وقت چھری سے کاٹنے کا ذکر ہے کہ وہاں پٖارچے بڑے بڑے تھے۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے ناخن بڑے بڑے ہوتے ہیں جن میں میل بھرا رہتا ہے پھر وہ پانی سے استنجا کرتے نہیں ہاتھ کبھی دھوتے نہیں اس لیے وہ ہاتھ سے کھاتے نہیں،ہم مسلمان حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کرم سے سر سے پاؤں تک بالکل پاک و صاف رہتے ہیں ہم ہاتھ سے کیوں نہ کھائیں۔

۲؎  یعنی دانت سے نوچی ہوئی بوٹیاں مزیدار زود ہضم اور جلد کھائی جانے والی ہوتی ہیں اس لیے اسی طرح کھایا کرو۔

۳؎   اگر یہ حدیث قوی نہ ہو تو وہ حدیث تو قوی ہے من تشبہ بقوم فھو منھم جو کسی قوم سے مشابہت ان کی نقالی کرے وہ اس قوم سے ہوتا ہے۔حدیث کی اسناد کیسی ہی ہوں حکم بالکل درست ہے،یہ حدیث اس صحیح  حدیث سے قوت یافتہ ہے قرآن کریم کی آیت سے بھی قوت پاتی ہے"لَایَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔کفر سے دلی یا عملی محبت حرام ہے۔آپ نو مسلم عیسائیوں کی نقالی میں کھڑے کھڑے کھاتے ہیں ہاں ابھی ہاتھ سے کھاتے ہیں برتن میں منہ نہیں ڈال دیتے۔
Flag Counter