| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عمرو بن عاص سے کہ انہوں نے ایک دن فرمایا حالانکہ ایک آدمی کھڑا ہوا تو بہت باتیں کیں ۱؎ تب حضرت عمرو نے فرمایا کہ اگر یہ اپنے کلام میں اختصارکرتا تو اچھا ہوتا ۲؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہ میں مناسب سمجھتا ہوں یا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ کلام میں اختصار کیا کروں۳؎ کیونکہ مختصر کرنا میں بہتر ہے۴؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی بہت لمبی تقریر کی نہایت فصیح و بلیغ تاکہ لوگ اس کے کمال کے قائل ہوجاویں لوگ اس کی دراز تقریر سے گھبرا گئے اکتاگئے۔ ۲؎ کہ زیادہ باتیں لوگ بھول جاتے ہیں دلوں پر اثر نہیں ہوتا بہتر یہ ہے کہ کلام تھوڑا ہو مگر دلنشیں اور مؤثر ہو۔ ۳؎ ہر کلام میں خصوصًا وعظ و نصیحت میں اختصار مفید اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے خیر الکلام ماقل و دل لوگوں کو یاد خوب رہتا ہے۔ ۴؎ اس حدیث کی اسناد میں محمد ابن اسماعیل ابن عباس راوی ہے اسے محدثین نے ضعیف فرمایا ہے۔