| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو بات کا ہیر پھیر سیکھے ۱؎ تاکہ اس سے مردوں یا لوگوں کے دل پھانس لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے نہ فرائض قبول فرمائے گا نہ نوافل ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ صرف کے چند معنی ہیں: ایک مضمون کو مختلف عبارتوں سے بیان کرنا،اچھی عبارت بولنا،جھوٹی بات سچی کرکے دکھانا یعنی جو عالم لچھے دارگفتگو زناٹے کی تقریریں کرنا اس لیے سیکھے کہ لوگ اس کے جال میں پھنس جائیں لوگ اس کے معتقد ہو جاویں۔ ۲؎ صرف وعدل کے بہت معنی ہیں: صرف فرض،عدل نفل،صرف توبہ،عدل فدیہ ،صرف عبادات عدل درستی معاملات یعنی ایسے ریا کار کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔وجہ ظاہر ہے کہ اس نے علم دین و دنیا کے لیے حاصل کیا اللہ کی اعلیٰ نعمت کی بے قدری کی۔