Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
637 - 975
حدیث نمبر 637
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس رات ہم کو سیر کرائی گئی(معراج)ہم ایسی قوم پرگزرے جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ۱؎  تو ہم نے کہا کہ جبریل یہ کون لوگ ہیں فرمایا یہ آپ کی امت کے واعظین ہیں۲؎  جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی لوہے کی قینچی آگ سے گرم کی ہوئی۔آگ بھی دوزخ کی تو ان کا تپنا گرم ہونا بھی نہایت ہی سخت ہوگا۔

۲؎  مرقات نے فرمایا کہ خطباء میں بے عمل عالم واعظ شاعر سب ہی داخل ہیں۔خیال رہے کہ بے عمل عالم سے بدعمل عالم زیادہ برا بھی ہے خطرناک بھی۔

۲؎  فی زمانہ واعظین عمل کا وعظ ہی نہیں کرتے شعر خوانی خوش الحانی قصے کہانی میں وقت پوراکرتے ہیں عام جلسے گویا حلال سینما ہیں کہ سننے والے بھی تماشائی ذہن عیاش ہوتے ہیں،ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب مسلمان علماء کے وعظ سن کر بعد میں یاد کرتے تھے کہ مولوی صاحب نے آج فلاں فلاں مسئلہ بیان کیا ہے۔
Flag Counter