۱؎ بلیغ یا تو بلاغت سے ہے یا مبالغہ سے اگر بلاغت سے ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو کوئی صرف کلام کی خوبیوں میں کوشش کرے سچ جھوٹ کی پرواہ نہ کرے،اگر مبالغہ سے ہے تو مطلب ظاہر ہے کہ وہ شخص لوگوں کی تعریف یا ہجو میں مبالغہ کرے جھوٹی سچی بات کی پرواہ نہ کرے۔
۲؎ یتخلل بنا ہے خلل سے بمعنی درمیان یا بیچ اس سے ہے خلال وہ تنکا جو دانتوں کے بیچ میں جائے۔ یتخلل کے معنی ہوئے اپنی زبان کو منہ کے بیچ میں گھمائے یعنی بہت بولے بے احتیاطی سے بولے اس کے ذریعہ روزی کمائے بے احتیاطی سے کھائے جیسے گائے باہر زبان نکال کر گھماکر چارا پکڑتی منہ میں لے جاتی ہے اچھی بری چیز میں فرق نہیں کرتی۔(مرقات،اشعہ)بقر،بقرہ،باقر،باقرہ سب کے معنی ہیں بیل، گائے۔بقر کے معنی ہیں چیرنا،چونکہ گائے بیل کے ذریعہ زمین ہل چلا کر چیرتی جاتی ہے اس لیے اسے باقرہ کہتے ہیں یعنی زمین کو چیرنے والے۔بڑے عالم کو باقر العلوم کہتے ہیں گویا اس نے علم کو چیر کر اس پر قبضہ کرلیا ہے اس لیے ایک امام کا نام باقر ہے،اس میں وہ واعظین بھی داخل ہیں جو محض پیشہ ور واعظ ہیں صرف روزی کمانے کے لیے تقریریں کرتے ہیں سوا لوگوں کو خوش کرنے کے اور کوئی غرض نہیں رکھتے۔یہاں مرقات نے بروایت حکم حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا حدیث نقل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے عالم،آخرت کے جاہل کو ناپسند فرماتا ہے وعظ تبلیغ دین کے لیے چاہیے۔