۱؎ یعنی ان کا ذریعہ معاش یہ ہی ہوگا کہ کسی کی خوشامدانہ جھوٹی تعریف میں قصیدہ کہہ دیا اور انعام حاصل کرلیا،کسی کے دشمن کی برائی میں نظم کہہ ڈالی اور کچھ وصول کرلیا،لوگوں کو فصیح وبلیغ جھوٹے کلام سنائے چندہ کرلیا یعنی صرف زبان سے کمائی کریں گے جیساکہ جاہلیت کے شعراء کا دستور تھا وہ ہی پھر ہوجاوے گا۔ نعت خواں،نعت گو،علماء واعظین اس میں داخل نہیں بشرطیکہ باعمل ہوں حلال و حرام آمدنی میں فرق کریں اسی لیے آگے بیان ہورہا ہے۔
۲؎ گائے میدان میں کھاتے وقت ہری سوکھی گھاس نہیں دیکھتی جو سامنے آجائے اسے کھالیتی ہے حتی کہ کبھی دودھک بوٹی بھی کھا جاتی ہے جس سے بیمار بلکہ ہلاک ہوجاتی ہے یہ ہی اس شخص کا حال ہے جو حلا ل و حرام نہ دیکھے جو ملے کھائے۔