| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی آپ اسے پسند کرتے تھے ۱؎ تو آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ دستی کا گوشت جلد گل جاتا ہے اس میں چھترے نہیں ہوتے،نہایت لذیذ ہوتا ہے اس کی مثل دوسرے گوشت سی نہیں۔ گندگی یعنی پیشاب و گوبر سے بہت دور رہتا ہے،جلد ہضم ہوتا ہے،دانتوں میں اس کے چھترے نہیں پھنستے کیونکہ چھترے ہوتے ہی نہیں۔ ۲؎ بوٹی دانت سے نوچ کر کھانا بھی سنت ہے اس میں بے تکلفی بھی ہے،لذت بھی تواضع اور انکسار بھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا پر لاکھوں سلام،ان کی ہر ادا رب تعالیٰ کی طرف سے ہے۔