| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصاری خندق کھودنے لگے اور مٹی ہٹانے لگے اور وہ یہ کہتے جاتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد پر بیعت کرلی جب تک کہ ہم باقی رہیں ہمیشہ کے لیے ۱؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم انہیں جواب دیتے ہوئے فرماتے تھے الٰہی نہیں ہے عیش مگر آخرت کا ۲؎ تو تو انصارومہاجرین کو بخش دے ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ سبحان اللہ! کیا نظارہ ہوگا کہ مؤمنین اپنے ایمان کے ساتھ خندق کھود رہے ہیں اور یہ گیت گاتے جارہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان کے جواب میں یہ دعائیں ارشاد فرمارہے ہیں۔ ۲؎ اس فرمان عالی میں حضرات صحابہ کو تسکین دینا ہے کہ یہاں کی مشقت پر نہ گھبراؤ اگلی زندگی میں دائمی عیش پاؤ گے۔ ۳؎ یعنی ان تمام کو ابھی ابھی بخش دے ان کے سارے گناہوں کی اگلے ہوں یا پچھلے اسی گھڑی بخشش فرمادے۔(مرقات)یہ ہے کرم کریمانہ۔ظاہر یہ ہے کہ انصارومہاجرین سے مراد سارے انصارومہاجرین ہیں اس کام میں شریک ہوئے ہوں یا کسی اور کام میں مصروف ہوں۔