Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
628 - 975
حدیث نمبر 628
روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خندق کے دن مٹی ہٹا رہے تھے حتی کہ آپ کا پیٹ غبار آلود ہوگیا ۱؎  فرماتے تھے رب کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۲؎  نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے۳؎  تو ہم پرسکون اتار اور اگر ہم دشمن سے مڈھ بھیڑ کریں تو ہم کو ثابت قدم رکھ۴؎ یقینًا ان کفار نے ہم پر زیادتی کی ۵؎  جب انہوں نے فتنہ کا ارادہ کیا تو ہم نے انکارکردیا ۶؎  اس پر اپنی آواز بلند فرماتے تھے ابینا۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ جب کفارعرب نے مل کر مدینہ طیبہ پر یلغار کرنی چاہی تو حضور انور نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا اور خودبھی اس کام میں شرکت فرمائی اور سرکار عالی مٹی ڈھوتے جاتے تھے اور یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے۔

۲؎  یعنی ہماری ہدایت ایمان اور ہدایت اعمال محض تیرے فضل و کرم سے ہے۔لولا اللہ کے معنی ہیں لولا فضل اللہ اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا۔اس میں اشارہ ہے اس آیت کریمہ کیطرف"وَمَاکُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوْلَاۤ اَنْ ہَدٰىنَا اللہُ"۔

۳؎ چونکہ نماز و صدقہ دیگر نیکیوں سے افضل ہیں اس لیے ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا،اھتدینا میں یہ دونوں آگئے تھے۔

۴؎  اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ"۔یعنی اے مولٰی اگر کفار سے ہماری جنگ ہوجاوے تو ہم کو جہاد میں ثابت قدم رکھ کہ ہمارے پاؤں ان کے مقابلہ میں اکھڑ نہ جائیں۔

۵؎  الاولی مخفف ہے اولئك کا یا اولاء کا اسم اشارہ ہے۔اس سے اشارہ ہے کفار عرب کی طرف اور ان کے ظلم کی جانب خصوصًا ان کفار کی طرف جو اس وقت ساری قوتیں جمع کرکے مدینہ منورہ پر ٹوٹ پڑنا چاہتے تھے۔

۶؎ یہاں فتنہ سے مراد اسلام سے پھیر دینا،کفر،قتل و غارت میں مشغول کردینا یعنی ان کفار نے چاہا کہ ہم اسلام کے بعد پھر کفر،قتل،ڈکیتی وغیرہ کریں۔اس فرمان میں اس آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ ہے"وَدُّوۡا لَوْ تَکْفُرُوۡنَ"۔غالب یہ ہے کہ اشعار خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہیں جو بے ساختہ منہ مبارک سے نکل رہے ہیں بغیر قصدوارادے کے۔
Flag Counter