۱؎ اس طرح کہ کفار اسلام مسلمانوں بلکہ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان اقدس میں بکواس کرتے تھے تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ جوابًا کفار ان کے دین ان کے بتوں کی ہجو اشعار میں کرتے تھے،حضور اس کے متعلق حضرت حسان کو بشارت دے رہے ہیں کہ جب تم ہجو کے اشعار لکھنے لگتے ہو تو جناب جبریل تمہارے دل میں اچھے مضمون ڈالتے ہیں تمہاری زبان پر اچھے الفاظ جمع فرماتے ہیں اور تم کو دعائیں دیتے تمہارا احترام کرتے ہیں یہ ہے حضرت جبریل کی مدد۔معلوم ہوا کہ دشمنان دین کی ہجو اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے،بعض وقت قصیدے جہاد میں بڑی مدد دیتے ہیں۔ستمبر ۱۹۶۵ء کے جہاد پاکستان میں اسے خوب اچھی طرح آزمایا ہے ریڈیو پاکستان نے اس قسم کے قصیدوں کے ذریعہ غازیوں بلکہ سارے پاکستانیوں کو گرما دیا جس کا نتیجہ بہت ہی اچھا رہا۔
۲؎ یعنی پہلے کفارقریش نے مسلمانوں کی ہجو کی جس سے مسلمانوں کے دل زخمی ہوگئے،حضرت حسان نے ان سے بدلہ لیتے ہوئے کفار کی ہجو کی مسلمانوں کے زخموں پر گویا مرہم رکھ دیا ان کے اشعار مرہم زخم دل ہیں۔