| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قریش کی ہجو کرو کہ یہ ان پر تیر کے مارنے سے زیادہ سخت ہے ۱؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں قریش سے مراد ان کے کفار حربی ہیں جو نہ ذمی تھے نہ مستامن جن پر جہاد جائز تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ہجو زبانی جہاد ہے جس سے دشمن کے دل زخمی ہوتے ہیں انکی ہمت ٹوٹتی ہے،جس پر تلوار کا جہاد جائز ہے اس کی ہجوبھی جائز ہے لہذا ذمی اور مستامن اور جن کفار سے ہماری صلح ہوچکی ہو انکی ہجو نہ کی جاوے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"جٰہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیۡنَ وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ"یہ ہجو شدت و غلظت میں داخل ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ مسلمان جوابًا ہجو کریں ابتداءً نہ کریں۔(مرقات)