۱؎ عمرو ابن شرید کی کنیت ابو الولید ہے،تابعی ہیں،ثقفی ہیں،طائف کے رہنے والے انکے والد شرید صحابی ہیں۔
۲؎ اس طرح کہ ایک گھوڑے اونٹ پر آگے حضور انور سوار تھے حضور کے پیچھے میں تھا،حضور کی پشت انور سے میرا سینہ مس کرتا تھا بطور شکریہ اس نعمت کا ذکر فرماتے ہیں تاکہ اپنا قرب بیان کریں اور یہ بات میں نے حضور سے بہت قریب سے سنی ہے مجھے اس میں تردد شک نہیں۔
۳؎ امیہ ابن الصلت قبیلہ بنی ثقیف کا ایک شاعر تھا جس نے اسلام کا شروع زمانہ اور حضور کی ابتدائی تبلیغ پائی مگر نہ ایمان لایا نہ حضور انورکی خدمت میں حاضر ہوا،اپنے دین تارک الدنیا اور توحیدی تھا،اس کے اشعار توحید والے حضور انور نے سنے فرمایا کہ یہ ایمان کے قریب تھا۔بعض روایات میں ہے کہ اس کے دل میں کفر تھا مگر زبان پر ایمان تھا۔(مرقات)
۴؎ ہیہ اصل میں ایہ تھا الف ھ سے بدل دیا گیا اس کے معنی ہیں لاؤ یا اور لاؤ،پہلا ھیہ بمعنی لاؤ ہے بعد کے ھیہ بمعنی اوربھی لاؤ سناؤ۔
۵؎ یہ اشعار حمد الٰہی ،دنیا کی بے وفائی،آخرت کے ثواب و عذاب کے تھے حضور انور نے پسند فرمائے اور بہت سے اشعار سنے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اچھے مضمون کے شعر اچھے ہیں جن احادیث میں اشعار کی برائی آئی ہے وہاں برے مضمون کے اشعا ر مراد ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم شعر جانتے تھے اس کی بھلائی برائی سے واقف تھے،آیت کریمہ"وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"میں یا تو شعر سے مراد ہے جھوٹا کلام یعنی ناول یا علمنا سے مراد ہے ملکہ شعر گوئی یا لہجہ سے شعر پڑھنا کہ حضور انور اس سے پاک تھے۔تیسرے یہ کہ دوسروں سے شعر پڑھوا کر سنناسنت سے ثابت ہے۔چوتھے یہ کفار وفساق شاعروں کے اچھے شعر سننا جائز ہیں جب کہ مضمون شعر اچھا ہو۔
۶؎ یہاں اشعہ میں ہے کہ امیہ ابن صلت اہلِ کتاب سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صفات سنتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ کاش مجھے ان کی زیارت خدمت نصیب ہو جب حضور انور قریش میں نمودار ہوئے تو جل گیا بولا اگر وہ بنی ثقیف سے ہوتے تو میں ایمان لے آتا اسی حسد میں حضور کی خدمت میں حاضر نہ ہوا،خط میں سب سے پہلے باسمك اللھم لکھنے والا یہ ہی شخص تھا اس سے سیکھ کر قریش یہ لکھنے لگے تھے۔