۱؎ آپ جندب ابن عبداللہ ابن ابوسفیان بجلی صحابی ہیں،زمانہ ابن زبیر میں وفات پائی۔
۲؎ غالبًا غزوہ احد تھا اس غزوہ میں آپ کسی نماز کے لیے تشریف لے گئے تب انگلی میں چوٹ لگ گئی لہذا یہ حدیث نماز کے جانے کی حدیث کے خلاف نہیں۔
۳؎ اے انگلی تو صبرکر صرف تیرا خون ہی نکلا ہے جو معمولی تکلیف ہے جو کچھ تجھے تکلیف پہنچی وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ما لقیت کا ما موصولہ ہے یہ شعر یا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا ہے جو بلا قصد شعر گوئی آپ کے منہ سے صادر ہوگیا جیسے قرآن مجید کی بعض آیات شعر بن جاتی ہیں جیسے" اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ" یا جیسے"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا"یا یہ شعر عبداللہ ابن رواحہ کا ہے آپ نے وہ پڑھا لہذا حضور انور کا شعر پڑھنا ثابت ہوا مگر لہجہ سے یا گاکر نہیں بقیہ اشعار یہ ہیں۔شعر
وما بنفس الی لا تقتلی تموت ھذہ حیاض الموت قد صبیت
وما تمیت فقد لقبت ان تفعل فعلھما ھدیت (مرقات)